نئی دہلی،29؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی) پارلیمنٹ میں جاری احتجاج کو عملاً حق بجانب قرار دیتے ہوئے قائد ِ اپوزیشن غلام نبی آزاد نے آج کہا کہ عوامی مسائل پرزور انداز میں ایوان میں اٹھانے پر اپوزیشن کو موردِ الزام ٹھہرانا نامناسب ہے ۔ ایک ایسے وقت جب کہ راجیہ سبھا میں ریٹائر ہونے والے 60 ارکان کو وداعی دی گئی ، آزاد نے بینکنگ اسکام ، کاویری تنازعہ اور آندھرا پردیش کے لیے خصوصی موقف جیسے مطالبات پر احتجاج کو جس کے سبب زائد از تین ہفتوں سے ایوان کی کارروائی میں خلل پڑا ہے ، حق بجانب قرار دینے اس موقع کا استعمال کیا ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارلیمنٹ کی وجہ سے جمہوریت زندہ ہے۔ ہمارا احتجاج کبھی بھی کرسی ٔ صدارت یا کسی مخصوص فرد کے خلاف نہیں رہا۔ یہ احتجاج کبھی سیاسی محرکات پر مبنی یا ہمارے ساتھیوں کے خلاف نہیں رہا ۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے بڑے مسائل اٹھائے جارہے ہیں جن سے عوام متاثر ہورہے ہیں ۔ میں قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ملک میں جمہوریت زندہ ہے تو صرف پارلیمنٹ کی وجہ سے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کو ایسے مسائل پارلیمنٹ میں اٹھانے کا حق حاصل ہے ، تاکہ وہ اپنے فرائض انجام دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہ (احتجاج) ٹی وی پر اچھا نہ لگتا ہو ، لیکن ارکانِ پارلیمنٹ جو یا تو بینکنگ اسکام یا کاویری تنازعہ یا آندھرا پردیش کے لیے خصوصی موقف کے مسئلہ پر آواز اٹھا رہے ہیں یہ قوم کے تئیں فرائض انجام دینے کا ایک حصہ ہے اور ایسا کرنے میں ارکان کا کوئی ذاتی مفاد یا ناپاک مقاصد نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بعض میڈیا اداروں نے اپوزیشن جماعتوں کے حالیہ احتجاج کو صدرنشین کے خلاف احتجاج کے طور پر پیش کیا ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ پر لڑنے اور پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام نامناسب ہے ، آزاد نے کہاکہ ان ارکانِ پارلیمنٹ کے حلقوں کے عوام کے لیے ان کے دروازے 24 گھنٹے کھلے ہیں ، جو ان پر پورا بھروسہ کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس سینئر عہدیدار ، صرف دفتری اوقات میں عوام سے ملاقات کرتے ہیں اور وہ بھی ملاقات کا وقت طے کرنے کے بعد ۔
انہوں نے کہا کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو عوام کی ضروریات کی نمائندگی کرنے اور وہاں ان کی آواز اٹھانے کے لیے ایوان میں بھیجا جاتا ہے ۔ آزاد نے زور دے کر کہا کہ ارکانِ پارلیمنٹ ، غریبوں ، کسانوں ، خواتین اور دیگر کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں اور ان کی جانب سے لڑتے ہیں۔ آواز اٹھانے سے کسی رکن پارلیمنٹ کو ذاتی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔